21 اکتوبر 2011 - 20:30

امریکہ سمیت دنیا بھر میں امریکی سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی حکام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے لوگ امریکی نآظم اور امریکی حکام سے نفرت و بیزاری کا اظہار کررہے ہیں۔نیویارک میں ایک ہزار سے زآئد مظاہرین کو حراست میں لےلیا گيا ہے۔

ابنا: امریکہ سمیت دنیا بھر میں امریکی سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی حکام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے لوگ امریکی نآظم اور امریکی حکام سے نفرت و بیزاری کا اظہار کررہے ہیں۔نیویارک میں ایک ہزار سے زآئد مظآہرین کو حراست میں لےلیا گيا ہے۔امریک میں سرمایہ دارانہ نظام،معاشی عدم مساوات،غربت اور بے روزگاری کے خلاف دنیا بھر کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔ لندن کا سینٹ پال چرچ عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا موٴقف ہے کہ وہ 99 فی صد عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ،جو ایک فی صد مراعات یافتہ طبقے کے استحصال اور لالچ کا شکار ہیں۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ،غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے امیروں کو زیادہ ٹیکس دینا چاہیے،اس کے علاوہ نجی کمپنیوں کی ناجائز منافع خوری اور حکومتوں پر ان کے اثرورسوخ کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔ان مطالبات کے حق میں اب تک امریکہ کے سیکڑوں شہروں  اور دنیا بھر کے 900 سے زائد شہروں میں مظاہرے ہوچکے ہیں۔ مختلف شہروں میں مظاہرین نے پارکوں ،اسمبلیوں اور معاشی مراکز کے باہر پڑاوٴ ڈال رکھے ہیں۔اس تحریک کا نقطہ آغاز بننے والے شہر نیویارک میں اب تک پولیس نیایک ہزار کے قریب مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔عوام میں اس تحریک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ زکوٹی پارک میں ایک ماہ سے مقیم مظاہرین کے لیے عوام نے جو کھانے پینے کی اشیا بھیجی ہیں اس سے ایک وسیع و عریض گودام بھر چکا ہے۔لندن کے معروف سینٹ پال چرچ کے باہر مظاہرین نے خیمے ڈال رکھے ہیں۔مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے سینٹ پال انتظامیہ نے کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے چرچ کو عوام اور سیاحوں کے لیے بند کر دیا ہے۔آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبورن میں پولیس نے 20 کے قریب مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔پولیس سے جھڑپ کے دوران 2 پولیس اہل کاروں سمیت 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔..........

/169